Sunday, August 9, 2026

جدید دنیا اور فراڈ کے نئے طریقے: ٹیکنالوجی کے دور میں خود کو کیسے محفوظ رکھا جائے؟


 

جدید دنیا اور فراڈ کے نئے طریقے: ٹیکنالوجی کے دور میں خود کو کیسے محفوظ رکھا جائے؟

تحریر: Jan Ali Laghari

موجودہ دور کو ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ، اسمارٹ فون، مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹل بینکنگ اور سوشل میڈیا نے جہاں ہماری زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں جرائم پیشہ عناصر نے بھی ٹیکنالوجی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماضی میں فراڈ کے لیے جعلی دستاویزات، فون کالز یا روایتی طریقے استعمال کیے جاتے تھے، لیکن آج دھوکہ دہی کے طریقے زیادہ جدید، پیچیدہ اور بعض اوقات انتہائی حقیقت کے قریب ہو چکے ہیں۔

آن لائن اسکیم اور فراڈ کیا ہے؟

آن لائن اسکیم یا فراڈ سے مراد ایسا دھوکہ ہے جس میں انٹرنیٹ، موبائل فون، سوشل میڈیا، ای میل یا ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو استعمال کرتے ہوئے کسی شخص سے رقم، ذاتی معلومات، بینک کی تفصیلات یا اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

فراڈ کرنے والے افراد اکثر خود کو بینک افسر، سرکاری اہلکار، کسی معروف کمپنی کا نمائندہ، دوست یا رشتہ دار ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا مقصد متاثرہ شخص کو خوف، لالچ یا جلد بازی میں ایسا فیصلہ کروانا ہوتا ہے جس سے وہ اپنی رقم یا معلومات ان کے حوالے کر دے۔

فشنگ: سب سے عام آن لائن فراڈ

فشنگ آج بھی آن لائن فراڈ کے سب سے عام طریقوں میں شامل ہے۔ اس میں صارف کو جعلی ای میل، SMS، WhatsApp پیغام یا ویب سائٹ کے ذریعے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اس کا بینک اکاؤنٹ، سوشل میڈیا اکاؤنٹ یا کوئی آن لائن سروس خطرے میں ہے۔

مثلاً کسی شخص کو پیغام موصول ہو سکتا ہے کہ:

"آپ کا بینک اکاؤنٹ بند ہونے والا ہے، اپنی معلومات کی تصدیق کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔"

صارف لنک کھول کر اپنا یوزرنیم، پاس ورڈ، کارڈ نمبر یا OTP درج کر دیتا ہے، جس کے بعد یہ معلومات فراڈ کرنے والوں کے ہاتھ لگ سکتی ہیں۔

جعلی بینک کالز اور OTP فراڈ

پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں جعلی بینک کالز کے ذریعے بھی لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ فراڈ کرنے والا خود کو بینک کا نمائندہ ظاہر کرکے کہتا ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ میں مشکوک سرگرمی ہوئی ہے یا آپ کا کارڈ بلاک ہونے والا ہے۔

اس کے بعد وہ صارف سے OTP، PIN، پاس ورڈ یا دیگر حساس معلومات طلب کرتا ہے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ OTP، PIN اور پاس ورڈ کسی شخص کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہیے، چاہے وہ خود کو بینک کا نمائندہ ہی کیوں نہ ظاہر کرے۔

جعلی آن لائن خریداری

آن لائن شاپنگ میں اضافے کے ساتھ جعلی آن لائن اسٹورز اور سوشل میڈیا پیجز بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ بعض صفحات پر مہنگی مصنوعات انتہائی کم قیمت پر فروخت کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

صارف ایڈوانس رقم ادا کر دیتا ہے، لیکن بعد میں یا تو سامان موصول نہیں ہوتا یا جعلی، ناقص یا مختلف چیز بھیج دی جاتی ہے۔ بعض اوقات جعلی ویب سائٹس صارف کے کارڈ یا ذاتی معلومات حاصل کرنے کے لیے بھی بنائی جاتی ہیں۔

جعلی ملازمت اور فری لانسنگ اسکیمیں

بے روزگار افراد کو نشانہ بنانے کے لیے جعلی ملازمتوں کی پیشکش بھی عام ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا یا WhatsApp کے ذریعے پیغام بھیجا جاتا ہے کہ ایک کمپنی گھر بیٹھے اچھی تنخواہ پر ملازمت دے رہی ہے۔

بعد میں رجسٹریشن فیس، سیکیورٹی فیس، ٹریننگ فیس یا دیگر اخراجات کے نام پر رقم طلب کی جاتی ہے۔ رقم وصول کرنے کے بعد فراڈ کرنے والے غائب ہو جاتے ہیں۔

جعلی سرمایہ کاری اور کرپٹو اسکیمیں

ڈیجیٹل سرمایہ کاری، اسٹاک مارکیٹ اور کرپٹو کرنسی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے فراڈ کے نئے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بعض افراد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ چند دنوں میں سرمایہ دوگنا یا تین گنا کر سکتے ہیں۔ بعض جعلی سرمایہ کاری پلیٹ فارمز پر صارف کو مصنوعی منافع دکھایا جاتا ہے تاکہ وہ مزید رقم جمع کرے۔

جب صارف بڑی رقم نکالنے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے مزید ٹیکس، فیس یا تصدیقی رقم طلب کی جاتی ہے، اور بالآخر رابطہ ختم کر دیا جاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت اور فراڈ کا نیا دور

مصنوعی ذہانت نے دنیا میں ایک نئی تکنیکی تبدیلی پیدا کی ہے۔ AI کے ذریعے آواز، تصاویر، ویڈیوز اور تحریر کو پہلے سے زیادہ حقیقت کے قریب بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائبر فراڈ کرنے والے بھی AI کو اپنے طریقوں میں شامل کر رہے ہیں۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی

ڈیپ فیک کے ذریعے کسی شخص کے چہرے یا آواز کو تبدیل کرکے ایسی ویڈیو یا آڈیو تیار کی جا سکتی ہے جو بظاہر حقیقی محسوس ہو۔

مثلاً کسی خاندان کے فرد کی جعلی آواز تیار کرکے یہ کہا جا سکتا ہے:

"مجھے فوری طور پر پیسوں کی ضرورت ہے، ابھی رقم اس اکاؤنٹ میں بھیج دیں۔"

ایسی صورتحال میں صرف آواز سن کر یقین کرنے کے بجائے متعلقہ شخص سے کسی دوسرے ذریعے سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔

AI Voice Cloning

AI کی مدد سے کسی شخص کی آواز کے مختصر نمونے سے ملتی جلتی آواز تیار کی جا سکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے فراڈ کرنے والے والدین، بچوں، دوستوں یا کاروباری ساتھیوں کی نقل کرکے رقم طلب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

اسی لیے صرف آواز کو شناخت کا حتمی ثبوت سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

جعلی ویڈیو کالز

جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ویڈیو اور آڈیو میں تبدیلی ممکن ہونے کی وجہ سے مستقبل میں جعلی ویڈیو کالز بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔ فراڈ کرنے والا کسی جاننے والے یا افسر کی شکل و آواز کی نقل کرکے فوری رقم یا حساس معلومات طلب کر سکتا ہے۔

ایسی صورتحال میں اچانک موصول ہونے والی غیر معمولی درخواست کی دوسرے ذریعے سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔

WhatsApp اور سوشل میڈیا ہیکنگ

فراڈ کرنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرکے متاثرہ شخص کے دوستوں اور رشتہ داروں کو پیغامات بھیج سکتے ہیں۔ چونکہ پیغام ایک جاننے والے اکاؤنٹ سے آتا ہے، اس لیے لوگ زیادہ آسانی سے یقین کر لیتے ہیں۔

مثلاً کسی دوست کے اکاؤنٹ سے پیغام آ سکتا ہے کہ:

"مجھے فوری طور پر پیسے بھیج دو، میں بعد میں واپس کر دوں گا۔"

رقم بھیجنے سے پہلے دوست کو براہِ راست فون کرکے تصدیق کرنا بہتر ہے۔

QR Code اور Payment Scam

QR کوڈ بھی جدید ادائیگی کے نظام کا اہم حصہ بن چکے ہیں، لیکن فراڈ کرنے والے جعلی QR کوڈز کا استعمال کرکے صارف کو غلط ویب سائٹ یا ادائیگی کے صفحے تک پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

کسی غیر معروف شخص کی طرف سے بھیجے گئے QR کوڈ کو اسکین کرنے یا ادائیگی کرنے سے پہلے اس کے مقصد اور وصول کنندہ کی تصدیق ضروری ہے۔

فراڈ سے بچنے کے بنیادی اصول

ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر دور رہنا مسئلے کا حل نہیں۔ اصل ضرورت ڈیجیٹل شعور اور احتیاط کی ہے۔

چند بنیادی اصولوں پر عمل کرکے آن لائن فراڈ کے خطرے کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے:

  1. OTP، PIN اور پاس ورڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
  2. مشکوک لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں۔
  3. بینک یا سرکاری ادارے کا نام استعمال کرنے والی غیر متوقع کال پر فوراً یقین نہ کریں۔
  4. آن لائن خریداری سے پہلے ویب سائٹ اور فروخت کنندہ کی ساکھ چیک کریں۔
  5. غیر معمولی طور پر زیادہ منافع کی پیشکش کو شک کی نظر سے دیکھیں۔
  6. سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر Two-Factor Authentication (2FA) فعال کریں۔
  7. ہر اہم اکاؤنٹ کے لیے منفرد اور مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں۔
  8. دوست یا رشتہ دار کی جانب سے رقم کی فوری درخواست پر فون کرکے تصدیق کریں۔
  9. AI سے تیار کردہ جعلی آواز یا ویڈیو کے امکان کو ذہن میں رکھیں۔
  10. مشکوک سرگرمی کی صورت میں متعلقہ بینک، پلیٹ فارم یا حکام کو اطلاع دیں۔

نتیجہ

جدید ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے اور اس کے فوائد سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن ہر نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ اس کے غلط استعمال کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔

آج کا فراڈ صرف ایک جعلی فون کال یا SMS تک محدود نہیں رہا۔ مصنوعی ذہانت، ڈیپ فیک، وائس کلوننگ، جعلی ویب سائٹس، سوشل انجینئرنگ اور ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام نے دھوکہ دہی کے طریقوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اس لیے جدید دور میں صرف ٹیکنالوجی کا استعمال جاننا کافی نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے فراڈ کو پہچاننا بھی ضروری ہے۔ اگر ہم جلد بازی سے بچیں، حساس معلومات محفوظ رکھیں اور ہر غیر معمولی درخواست کی تصدیق کریں تو ہم خود کو اور اپنے خاندان کو جدید آن لائن فراڈ سے بڑی حد تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

حیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیض اللہ ڈاہری نے حیسکو کانفرنس ہال میں آپریشن سرکل حیدرآباد، آپریشن میرپورخاص کے افسران کے ساتھ میٹنگ کی


 

حیسکو چیف کی افسران کے ساتھ ماہانہ کارکردگی پر اہم اجلاس، ناقص کارکردگی پر ایک افسر معطل

حیدرآباد: حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیض اللہ ڈاہری نے حیسکو کانفرنس ہال میں آپریشن سرکل حیدرآباد، اور آپریشن سرکل میرپورخاص کے افسران کے ساتھ ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں تمام سب ڈویژنز، ڈویژنز اور سرکلز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بجلی کی ریکوری، لائن لاسز میں کمی، بجلی چوری کے خلاف جاری اقدامات اور زیرو لوڈشیڈنگ فیڈرز کی کارکردگی پر خصوصی توجہ دی گئی۔

حیسکو چیف نے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کو سخت وارننگ جاری کی۔ جبکہ گاڑی کھاتہ ڈویژن کے ریونیو آفیسر (RO) اشفاق جانوری کو ناقص کارکردگی کی بنیاد پر معطل کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔

اس موقع پر حیسکو چیف ایگزیکٹو آفیسر فیض اللہ ڈاہری نے کہا کہ صارفین کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے ساتھ خوش اخلاقی، عزت اور احترام سے پیش آیا جائے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ صارفین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور انہیں بجلی کی فراہمی سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ صارفین کے مسائل سننے کے لیے کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، ٹیلیفون کالز اٹینڈ کی جا رہی ہیں اور صارفین کی عزتِ نفس کا مکمل خیال رکھتے ہوئے انہیں بجلی کی بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

حیسکو چیف نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ روزانہ صبح 11 بجے سے دوپہر 1 بجے تک کھلی کچہریوں کا انعقاد یقینی بنایا جائے تاکہ صارفین براہِ راست اپنے مسائل اور شکایات متعلقہ افسران تک پہنچا سکیں۔

انہوں نے مزید ہدایت کی کہ بجلی چوری کے خاتمے، لائن لاسز میں کمی، ریکوری میں بہتری اور صارفین کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ ناقص کارکردگی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور افسران کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا رہے گا۔

کمشنر حیدرآباد ڈویژن فیاض حسین عباسی نے دفعہ 144 ضابطہ فوجداری سی ار پی سی نافذ کردی لیٹر جاری


 حیدرآباد میں نہاتے ہوئے ڈوبنے کے واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے حیدرآباد ڈویژن میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی تیرنے اور نہانے پر مکمل پابندی عائد

 کمشنر حیدرآباد ڈویژن فیاض حسین عباسی نے دفعہ 144 ضابطہ فوجداری سی ار پی سی  نافذ کردی لیٹر جاری

  دریائے سندھ کے تفریحی مقامات سمیت تمام نہروں، دریا کے کناروں، تالابوں، نالوں، جھیلوں میں تیرنے اور نہانے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی لیٹر کا متن

یہ اقدام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور ڈوبنے کے واقعات سمیت پانی سے متعلق حادثات کی روک تھام کے لیے بطور حفاظتی اقدام اٹھایا گیا ہے لیٹر کا متن 

 شہریوں سے اپیل ہے کہ پابندی پر سختی سے عمل کریں اور کسی بھی ممنوعہ آبی مقام میں داخل ہونے یا نہانے سے گریز کریں لیٹر کا متن 

 ضلعی انتظامیہ حیدرآباد عوام سے تعاون کی اپیل کرتی ہے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ لیٹر کا متن

بارہ ربیع الاول کے اجتماعات، وزیراعلیٰ سندھ کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت


  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 12 ربیع الاول کے موقع پر صوبے بھر میں فول پروف سیکیورٹی، صفائی ستھرائی، ٹریفک مینجمنٹ اور شہری سہولیات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ہفتہ کو مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علما کرام اور اعلیٰ سرکاری افسران کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں 12 ربیع الاول کے سلسلے میں ہونے والے میلاد جلوسوں، مذہبی اجتماعات اور دیگر تقریبات کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں سینئر وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، وزیر بلدیات ناصر شاہ، وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار، وزیر مذہبی امور ریاض شاہ شیرازی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ آغا واصف عباس، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، انسپکٹر جنرل پولیس جاوید عالم اوڈھو، کمشنر کراچی سید حسن نقوی، ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان، ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ، واٹر کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر فواد غفار سومرو سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں کراچی سمیت صوبے کے مختلف ڈویژنز کے کمشنرز اور ڈی آئی جیز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جبکہ کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی کے نمائندگان بھی موجود تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ میلاد جلوسوں اور مذہبی اجتماعات کے روٹس پر سیکیورٹی کے جامع انتظامات کیے جائیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی رابطے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ انہوں نے شہریوں کی سہولت کے لیے ٹریفک مینجمنٹ کا مؤثر پلان تیار کرنے اور جلوسوں کے دوران آمدورفت کو ممکنہ حد تک معمول کے مطابق رکھنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں علما کرام نے سیکیورٹی، صفائی، ٹریفک، نکاسی آب اور دیگر شہری سہولیات سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو علما کی جانب سے سامنے آنے والے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی۔

مراد علی شاہ نے 12 ربیع الاول سے قبل اور دوران صوبے بھر میں خصوصی صفائی مہم چلانے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے جلوسوں کے راستوں، مساجد، امام بارگاہوں، میلاد مقامات اور دیگر عوامی مقامات پر صفائی کے مؤثر انتظامات، سیوریج اور نکاسی آب کے مسائل کے بروقت حل اور خراب سڑکوں کی مرمت یقینی بنانے پر زور دیا۔

وزیراعلیٰ نے بجلی اور گیس کی فراہمی سے متعلق اداروں کو بھی ہدایت کی کہ مذہبی اجتماعات کے دوران بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے پیشگی رابطہ کاری رکھیں۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے مختلف مکاتب فکر کے علما کرام کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی، اتحاد اور رواداری کے فروغ کے لیے علما کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ 12 ربیع الاول کی تقریبات مذہبی عقیدت، احترام، امن اور بھائی چارے کے ماحول میں منعقد کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے قمری حسابات کے مطابق ربیع الاول 1448 ہجری کا آغاز 15 اگست 2026 کو متوقع ہے، جبکہ 12 ربیع الاول کی متوقع تاریخ 26 اگست 2026 بنتی ہے

Friday, August 7, 2026

ایڈووکیٹ جنرل: عمران اور بشریٰ قیدِ تنہائی میں نہیں، انہیں بی کلاس سے بڑھ کر سہولیات دی جا رہی ہیں


 

      اسلام آباد ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف درخواستوں پر جسٹس خادم حسین سومرو نے سماعت کی

       درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر جبکہ حکومت کی نمائندگی ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے کی

.       

.      ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے، جس کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی قیدِ تنہائی میں نہیں بلکہ انہیں بی کلاس سے بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر دیگر قیدیوں سے ملاقات محدود ہے، جسے قیدِ تنہائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔


      جیل سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ نے عدالت کو بتایا کہ قیدِ تنہائی میں قیدی 24 گھنٹے سیل میں بند رہتا ہے، جبکہ عمران خان کو سات سیلز پر مشتمل کمپاؤنڈ میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہے۔ ان کے ساتھ ایک سزا یافتہ مشقتی بھی موجود رہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کو ٹی وی، اخبارات اور کتب کی سہولت حاصل ہے، دو اخبارات باقاعدگی سے فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ اب تک 500 سے زائد کتابیں دی جا چکی ہیں۔

       

      دوسری جانب بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر بطور فرینڈ آف دی کورٹ عمران خان سے ملاقات کے دوران ان کی بینائی متاثر محسوس ہوئی۔ ان کے مطابق عمران خان نے خوراک، سکیورٹی اور دیگر بنیادی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم اپنی بینائی کے حوالے سے تشویش ظاہر کی۔

 سلمان صفدر نے کہا کہ انہیں سات ماہ تک اپنے مؤکل سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی اور چیف جسٹس کی مداخلت کے بعد اپریل میں 65 منٹ کی ملاقات ممکن ہوئی۔ ان کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ انہیں اور بشریٰ بی بی کو طویل عرصے سے عملاً قیدِ تنہائی کا سامنا ہے، جبکہ ٹی وی موجود ہونے کے باوجود چینلز دستیاب نہیں۔

   

  انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی بہن علیمہ خانم کو متعدد بار اڈیالہ جیل جانے کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں ملی، جبکہ گزشتہ آٹھ ماہ سے عمران خان کی اپنے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات بھی نہیں کرائی گئی۔

  بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت سے استدعا کی کہ تین وکلا پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جو جیل جا کر دونوں قیدیوں کے حالات کا جائزہ لے، اور عمران خان کو ہفتے میں ایک بار اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کی سہولت فراہم کرنے سے متعلق بیانِ حلفی بھی طلب کیا جائے۔

  

  دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فریقین کو تحریری گزارشات اور متعلقہ عدالتی نظائر جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا

 

مورو جي رهواسڻ شازيه سولنگي پاران آئيني درخواست داخل ڪئي وئي


 سنڌ هاءِ ڪورٽ ۾ مورو جي رهواسڻ شازيه سولنگي پاران آئيني درخواست داخل ڪئي وئي آهي جنهن ۾ الزام لڳايو ويو آهي ته سندس مڙس محمد مٺل جي چاچن ۽ سئوٽن خلاف اغوا جو ڪوڙو ڪيس داخل ڪرايو ويو، جڏهن ته پوليس قربان عرف بگو کي گرفتار ڪري حراست ۾ رکيو ۽ گهر جي ڀڃ ڊاهه ڪري لکين رپين جو سامان کڻي وئي درخواستگذار شازيه پنهنجي درخواست ۾ موقف اختيار ڪيو آهي ته سندس شادي محمد مٺل سان وارثن جي رضامندي ۽ مرضي موجب ٿي هئي پر بعد ۾ بابا غلام علي کي مجن، ارشد، محبوب علي ۽ قربان زرداري سميت ٻين ڌرين سندس وارثن کي مبينا طور بڙڪايو جنهن کانپوءِ مختلف معاملا پيدا ٿيا درخواستگذار موجب معاملو اڳتي وڌڻ بعد راڄوڻي سطح تي فيصلو ڪيو ويو جنهن ۾ 25 لک رپيا ڏنڊ مقرر ڪيو ويو سندس چوڻ آهي ته مڙس محمد مٺل پنهنجي زرعي زمين وڪڻي اهو ڏنڊ ادا ڪيو جڏهن ته ان عرصي دوران سندس چار مهينن جو حمل به مبينا طور ضايع ٿي ويو شازيه عدالت کي ٻڌايو ته بعد ۾ سندس مڙس محمد مٺل جي چاچن ۽ سئوٽن خلاف اغوا جو ڪوڙو ڪيس داخل ڪرايو ويو. هن الزام لڳايو ته پوليس قربان عرف بگو کي گرفتار ڪري پنج مهينن تائين جيل ۾ رکيو، جڏهن ته سندن گهر ۾ ڀڃ ڊاهه ڪري لکين رپين جو سامان پڻ کڻي وڃڻ جو الزام آهي درخواستگذار عدالت کان استدعا ڪئي آهي ته کيس ۽ سندس مڙس سميت خاندان جي ٻين ڀاتين کي لاڳاپيل ڌرين کان تحفظ فراهم ڪيو وڃي ۽ کين مبينا طور انتقامي ڪاررواين کان بچايو وڃي سنڌ هاءِ ڪورٽ درخواست تي گھرو کاتي جي سيڪريٽري، ايس ايس پي حيدرآباد، ايس ايس پي نوشهروفيروز، ايس ايڇ او نوشهروفيروز، ايس ايڇ او هٽڙي ۽ ٻين لاڳاپيل ڌرين کي نوٽيس جاري ڪري ڇڏيا آهن عدالت لاڳاپيل ڌرين کان درخواست بابت جواب طلب ڪندي ٻڌڻي 21 آگسٽ تائين ملتوي ڪري ڇڏي آهي.

جماعت اسلامی کی جانب سے مہنگائی کے خلاف احتجاج


 حیدراباد 7 اگست 2026 

حیدراباد میں جماعت اسلامی کی جانب سے اج حیدر چوک پر احتجاجی دھرنا دیا گیا 

احتجاجی دھرنے میں نہ صرف حیدراباد بلکہ اس پاس کے علاقوں کوٹری جامشورو ٹنڈو جام سے بھی بڑی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی

احتجاجی دھرنے کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ۔ پیٹرول کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ سمیت دیگر کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہونے کے خلاف احتجاج کیا گیا 

احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے قائدین کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ہر پاکستانی کو مشکل میں ڈال دیا ہے غریب عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے وہ دو وقت کی روٹی حاصل کرنے میں بھی ناکام ہے تو وہیں پیٹرول کی قیمتیں اسمانوں سے بات کر رہی ہیں ہم اپنے بچوں کو تعلیم دیں یا روٹی دیں

اگر فل فور مہنگائی پر قابو نہیں پایا گیا تو ملک میں حالات بگڑ سکتے ہیں

Thursday, August 6, 2026

زیادتی کیس: بھارتی صحافی ترون تیج پال کو 10 سال قید کی سزا


 

بھارت کی ایک عدالت نے تہلکہ میگزین کے سابق مدیر ترون تیج پال کو اپنی سابق خاتون ساتھی کے ساتھ زیادتی کے جرم میں 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے ایک دہائی پرانے اس مقدمے میں 2021 کا بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں مجرم ٹھہرایا۔

بمبئی ہائی کورٹ کے گوا بینچ نے ترون تیج پال کو بھارتی قانون کی ان دفعات کے تحت سزا سنائی جو زیادتی اور جنسی ہراسانی سے متعلق ہیں۔

اگر آپ اسے نیوز چینل کے مختصر بلیٹن یا ویب نیوز اسٹائل میں چاہتے ہیں تو میں وہ انداز بھی تیار کر سکتا ہوں

عدالت نے 10 سال قید کی سزا کے ساتھ ترون تیج پال پر مجموعی طور پر 10 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ عدالت کے مطابق مختلف مقدمات میں دی گئی سزائیں بیک وقت نافذ ہوں گی۔

ترون تیج پال نے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔ سزا سنائے جانے سے قبل انہوں نے کہا کہ وہ فیصلے کے خلاف بھارت کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔

اگر آپ پوری خبر کو ایک مربوط اردو نیوز رپورٹ کی شکل میں مرتب کرنا چاہتے ہیں تو میں تمام پیراگراف کو ایک ہی انداز میں یکجا کر سکتا ہوں

 

ئی جی سندھ نے کہا ہے کہ میر رضا قتل کیس ٹریس کر لیا گیا ہے اور تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔


 

کراچی: آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس ٹریس کر لیا ہے

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا پولیس نے کیس میں اہم پیش رفت کی ہے اور بہت جلد پریس کانفرنس کے ذریعے تحقیقات کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کیس پر غیر متعلقہ میڈیکو لیگل افسر کی جانب سے تبصرے کیے جا رہے ہیں، تاہم اگر میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جاتا ہے تو پولیس کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں ہی تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا۔

دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ کے قریب سے گولی کا ایک خول برآمد ہوا ہے، جس کا فرانزک کرایا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ خول کس پستول سے فائر کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تاحال واردات میں استعمال ہونے والا پستول برآمد نہیں ہو سکا، اس لیے اس حوالے سے حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔

ادھر پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ میر رضا کا پوسٹ مارٹم کل کیا جائے گا، جس کے لیے خصوصی میڈیکل ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ ان کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران مختلف فرانزک سیمپلز حاصل کیے جائیں گے، جبکہ قبر کشائی کے بعد سیمپلز لینے کے بعد میت کو دوبارہ سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔

ڈاکٹر سمعیہ نے مزید بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے عمل کے دوران متعلقہ مقام کو محفوظ رکھنے کے لیے پولیس کو بھی ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

 

سونا مزید مہنگا، فی تولہ قیمت میں 10 ہزار روپے کا نمایاں اضافہ


 پاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 37 ہزار 936 روپے کا ہوگیا

پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 10 ہزار روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 37 ہزار 936 روپے ہوگئی۔

ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 8 ہزار 573 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد 10 گرام سونے کی قیمت بڑھ کر 3 لاکھ 75 ہزار 459 روپے ہوگئی۔

جدید دنیا اور فراڈ کے نئے طریقے: ٹیکنالوجی کے دور میں خود کو کیسے محفوظ رکھا جائے؟

  جدید دنیا اور فراڈ کے نئے طریقے: ٹیکنالوجی کے دور میں خود کو کیسے محفوظ رکھا جائے؟ تحریر: Jan Ali Laghari موجودہ دور کو ٹیکنالوجی کا دور ک...