Tuesday, August 4, 2026

انعم عزیز نے پاکستان کی پہلی 100 کلومیٹر الٹرا میراتھون جیت کر نئی تاریخ رقم کر دی


 
انعم عزیز نے دشوار گزار پہاڑی راستوں، گھنے جنگلات اور قدرتی و جنگلی حیات سے جڑے خطرات کے باوجود اس کٹھن مقابلے میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی اپنے نام کی۔
انعم عزیز نے کہا کہ  میراتھون کوئی آسان چیلنج نہیں تھا۔ انہیں پہلے سے اندازہ تھا کہ راستے میں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلیات کے پہاڑی علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کا خطرہ موجود رہتا ہے، جس طرح کوہ پیمائی کے دوران برفانی طوفان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے کوہ پیمائی ہو یا گلیات ٹریل رننگ، دونوں میں خطرات موجود ہوتے ہیں، تاہم اس مقابلے میں جنگلی حیات (وائلڈ لائف) کا خطرہ نسبتاً زیادہ تھا۔
انعم عزیر نے کوہ پیمائی اور ماونٹین ٹریل رننگ کو مختلف تجربات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کا آپس میں موازنہ نہیں کیا جاسکتا، جو خطرات کوہ پیمائی میں ہیں وہ اس میں نہیں ہیں اور جو اس میں ہیں وہ کوہ پیمائی میں نہیں ہیں
انہوں نے کہا کہ میں ٹریننگ روزانہ کرتی ہوں، فٹنس تو ہر کسی کے لیے لازمی ہے چاہے آپ نے کسی مقابلے میں حصہ لینا ہے یا نہیں، فٹنس کے لیے ٹریننگ کو آپ لائف اسٹائل بنائیں، میں سارا سال فٹنس ورک کرتی ہوں یہ میری زندگی ہے اور میں سیڑھیاں چڑھتی ہوں، میں 100 سے 100 فلورز تو لازمی چڑھتی ہوں، مجھے خود کو ہر وقت فٹ رکھنا ہے اور پھر میں اسی صورت میں چیلنجز قبول کرتی ہوں، مستقبل کے لیے بھی میں نے ایک مشکل چیلنج ذہن میں رکھا ہوا اور یہ پاکستان کے لیے کروں گی۔
 
 

Labor Working in Brick Kilns in Sindh


 By Jan Ali Laghari

4 August 2026

The daily routine of a brick kiln worker begins early in the morning and continues until sunset. Men, women, and sometimes even children work together to prepare clay, shape bricks, carry heavy loads, and arrange the bricks for drying and baking. They perform these tasks under the hot sun, in dusty surroundings, and often without proper safety equipment. The intense heat from the kilns and the heavy physical labor make the job exhausting and harmful to their health and also for their life.

Brick kiln workers in Sindh are among the hardest working laborers in Pakistan. They spend long hours every day making bricks by hand in extremely difficult and dangerous conditions of weather. Their work is physically demanding, yet they receive very low wages that are often not enough to meet their families' basic needs.


One of the biggest challenges faced by brick kiln workers is their low income. Many workers are paid only a small amount for every thousand bricks they produce. Since the work depends on weather conditions and production, their earnings are often uncertain. The money they receive is usually not enough to cover food, healthcare, education, and other household expenses. Many families also borrow money from kiln owners, which can trap them in long-term debt and make it difficult to leave the job and for their whole life they work for him (owner).

Poor living conditions make their situation even more difficult. Many workers live in small, temporary houses near the kilns without clean drinking water, proper sanitation, or electricity. Access to schools and medical facilities is limited, preventing many children from receiving a quality education. As a result, children often begin working alongside their parents instead of attending school, continuing the cycle of poverty.


Brick kiln workers make an important contribution to the construction industry. The bricks they produce are used to build homes, schools, hospitals, roads, and other important structures. However, their hard work is rarely recognized, and they often do not receive fair wages or proper legal protection. They deserve respect, safe working conditions, and opportunities to improve their lives.

The government, employers, and society should work together to improve the lives of brick kiln workers in Sindh. Fair wages, better housing, access to education and healthcare, and strict enforcement of labor laws can help protect their rights. By supporting these workers, we can reduce poverty and ensure that the people who help build our communities are treated with dignity, fairness, and respect.

 





پاکستان بھر میں آج یومِ شہدائے پولیس عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے

منگل، 4 اگست 2026: پاکستان بھر میں آج یومِ شہدائے پولیس عقیدت، احترام اور قومی جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد ملک کی خاطر دہشت گردی، جرائم اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کی بے مثال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔
اس موقع پر ملک بھر میں شہدائے پولیس کی یادگاروں پر خصوصی تقریبات، قرآن خوانی، فاتحہ خوانی، پھولوں کی چادریں چڑھانے اور سلامی پیش کرنے کی تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں۔ مختلف پولیس لائنز اور دفاتر میں شہداء کے درجات کی بلندی، وطن کی سلامتی اور امن و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی جا رہی ہیں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں شہدائے پولیس کی جرات، بہادری اور لازوال قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے ان بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے قانون کی حکمرانی قائم رکھنے اور ملک کو دہشت گردی و جرائم سے محفوظ بنانے کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔ صدر نے شہداء کے اہلِ خانہ کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فلاح و بہبود پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب پولیس حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہدائے پولیس کے مشن کو ہر صورت جاری رکھا جائے گا اور ملک میں امن، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ جذبے کے ساتھ انجام دی جاتی رہیں گی۔
یومِ شہدائے پولیس ہر سال 4 اگست کو منایا جاتا ہے تاکہ ان پولیس اہلکاروں کی لازوال قربانیوں کو یاد رکھا جا سکے جنہوں نے وطن اور عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ اس دن کا مقصد نئی نسل میں شہداء کی قربانیوں کا شعور اجاگر کرنا، پولیس فورس کی خدمات کو سراہنا اور قومی سطح پر ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کرنا بھی ہے۔

 

Sindhi Ajrak and Topi: Timeless Symbols of Sindh's Rich Cultural Herita


By Jan Ali Laghari

The Sindhi Ajrak and Sindhi Topi are among the most treasured symbols of the cultural identity of Sindh, Pakistan. Worn with pride by people of all ages, these traditional items represent honor, hospitality, dignity, and the centuries-old heritage of the Sindhi people. Every year, people celebrate Sindhi Cultural Day by wearing Ajrak and Topi to promote their culture and traditions across the world.

The history of Ajrak dates back more than 2,000 years. Archaeologists believe that its design can be traced to the ancient Indus Valley Civilization, particularly the city of Mohenjo-daro. The famous statue known as the "Priest-King" is believed to wear a shawl with patterns similar to those found on today's Ajrak. Over the centuries, artisans preserved this unique textile tradition, passing their skills from one generation to the next.

Ajrak is a beautifully handcrafted block-printed cloth made using natural dyes. Its deep shades of blue, red, black, and white are created through a lengthy printing and dyeing process involving several stages of washing, printing, and drying. Traditional wooden blocks are carefully carved with intricate geometric and floral designs, making every piece unique.

The Sindhi Topi has an equally rich history. It is recognized for its distinctive round shape and beautifully embroidered front arch. The cap symbolizes respect, wisdom, and cultural pride. It is commonly worn during weddings, festivals, religious gatherings, and official cultural events. Skilled craftsmen spend many hours hand-stitching colorful embroidery and mirror work onto each Topi, reflecting the artistic excellence of Sindhi artisans.

Ajrak and Topi are traditionally produced in several districts of Sindh. The city of Hala is internationally famous for its handcrafted Ajrak and other traditional crafts. Matiari, Hyderabad, Bhitshah, Tando Muhammad Khan, Sehwan, and parts of Khairpur are also well known for producing high-quality Ajrak and embroidered Sindhi Topis. These crafts provide employment to thousands of artisans and contribute significantly to the local economy.

Today, Sindhi Ajrak and Topi have gained international recognition. They are gifted to distinguished guests, worn by public figures, and proudly displayed by the Sindhi diaspora around the world. More than just traditional clothing, they are living symbols of Sindh's history, resilience, craftsmanship, and cultural pride. Preserving these traditions ensures that future generations remain connected to the rich and colorful heritage of Sindh.

 

بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں 7 فیصد کمی واقع ہوئی ہے


 31 جولائی کے بعد آخری کاروباری روز کے اختتام پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

برینٹ (Brent) خام تیل کی قیمت 6.35 ڈالر فی بیرل کم ہو کر 83.77 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

 خام تیل 4.33 ڈالر سستا ہو کر 80.34 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی منڈی میں معاشی سرگرمیوں، توانائی کی 

رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ٹرمپ انتظامیہ نے مارکیٹ میں سپلائی بڑھانے اور ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے مقصد سے اسٹریٹجک ذخائر سے 172 ملین بیرل خام تیل جاری کرنے کی منظوری دی تھی، جس کے بعد ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا انحصار عالمی معاشی صورتحال، اوپیک پلس (OPEC+) کی پالیسی، امریکی ذخائر کے اعداد و شمار اور مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی حالات پر ہوگا، جو عالمی توانائی مارکیٹ کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔طلب اور پیداوار سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس کے باعث سرمایہ کار محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہیں۔

آزادکشمیرکے انتخابات میں تاریخی دھاندلی کی گئی: شرجیل میمن


کراچی / اسلام آباد: سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ جس طرح 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی گئی تھی، اسی طرز عمل کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی دہرایا گیا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ وفاق اور پنجاب میں قائم حکومت نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی "فارم 47" کی سیاست کو جاری رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو شکست دینے کے لیے وفاقی اور پنجاب حکومت نے مبینہ طور پر گٹھ جوڑ کیا، جس کے باعث انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایک "خیراتی مینڈیٹ" کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے، لیکن وفاقی وزراء کی حالیہ پریس کانفرنس میں انہیں کسی قسم کی ندامت یا افسوس دکھائی نہیں دیا۔ ان کے بقول، وزراء کی گفتگو میں تکبر اور غرور نمایاں تھا، تاہم یہ رویہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے گا کیونکہ عوام انتخابی عمل کی حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔

شرجیل میمن نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر خصوصاً میرپور ڈویژن میں ہونے والے انتخابات کے دوران مختلف بے ضابطگیوں کی شکایات الیکشن کمیشن کو جمع کرائی گئیں، مگر ان پر کوئی مؤثر کارروائی یا نوٹس نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ "دھاندلی بھی کی گئی اور پھر اس کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کا دفاع بھی کیا جا رہا ہے۔"

انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی اپنا مؤقف شائستگی اور قانونی طریقے سے پیش کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی گالم گلوچ یا بدتمیزی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ آئینی اور قانونی فورمز پر اپنے تحفظات اٹھائے گی

 

Pakistan Stock Exchange (PSX)


 

Written by: Jan Ali Laghari

The Pakistan Stock Exchange (PSX) is the primary stock market of Pakistan and plays a vital role in the country's economic development. It was established in 2016 through the merger of the Karachi, Lahore, and Islamabad stock exchanges, creating a unified and efficient marketplace for investors and businesses. The PSX provides companies with an opportunity to raise capital by issuing shares, while investors can buy and sell these shares to earn returns.

The exchange lists companies from various sectors, including banking, cement, oil and gas, fertilizers, pharmaceuticals, textiles, and technology. The KSE-100 Index is the benchmark index of the PSX and reflects the performance of the country's leading publicly listed companies. Investors closely monitor this index to understand market trends and economic conditions.

The Pakistan Stock Exchange contributes significantly to economic growth by encouraging investment, supporting business expansion, and creating employment opportunities. It also promotes transparency and corporate governance through regulatory oversight. The Securities and Exchange Commission of Pakistan (SECP) regulates the capital market to ensure fair and efficient trading.

Although stock market investments involve risks due to market fluctuations, informed investing and long-term planning can help investors achieve financial growth. As Pakistan's economy develops, the PSX is expected to remain an important pillar of the country's financial system.

Monday, August 3, 2026

گڈز ٹرانسپورٹرز کا 8 اگست سے غیر معینہ مدت تک ملک گیر ہڑتال کا اعلان


 کراچی: آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے حکومت سے مذاکرات اور مطالبات کی منظوری نہ ملنے پر 8 اگست (بروز ہفتہ) سے غیر معینہ مدت کے لیے ملک گیر ہڑتال (پہیہ جام) کا اعلان کر دیا ہے۔

اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو باضابطہ طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا ہے

اہم مطالبات:

  1. وزیر پیٹرولیم کا استعفیٰ:

o    ناقص پالیسیوں پر وزیر پیٹرولیم (علی پرویز ملک / پرویز علی ملک) فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔

  1. پیٹرولیم مصنوعات اور قیمتیں:

o    پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپس لیا جائے۔

o    ایندھن کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل کرنے کے بجائے ماہانہ بنیادوں پر مقرر کی جائیں۔

  1. ٹیکس اور ٹول ٹیکس میں کمی:

o    گڈز ٹرانسپورٹ سیکٹر پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 7 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کی جائے (جو کہ آئل ٹینکرز کے برابر ہو)۔

o    ٹول ٹیکس میں کیا گیا اضافی اضافہ واپس لے کر اسے 30 جون 2024ء کی سطح پر بحال کیا جائے۔

  1. قانونی اور ضابطہ جاتی اصلاحات:

o    ایکسل لوڈ کے قانون پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

o    کسٹم SRO 1619/2024 اور 10 سے 20 سال پرانی گاڑیوں کی منسوخی کا قانون فوری طور پر ختم کیا جائے۔

o    روڈ حادثات میں 97 لاکھ روپے دیت کے قانون کو واپس لیا جائے۔

o    ڈرائیوروں کے لیے ٹیسٹ کے بعد HTV لائسنس کے اجراء کو آسان بنایا جائے۔

  1. سیکیورٹی، سہولیات اور دیگر امور:

o    کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کے اطراف گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے پارکنگ کی مخصوص سہولت فراہم کی جائے۔

o    بلوچستان میں ٹرکوں پر حملوں اور امن و امان کی ابتر صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔

o    سندھ حکومت کی جانب سے تھرڈ پارٹی انشورنس کے نام پر ہونے والی مبینہ غیر قانونی کٹوتیاں اور وصولیاں بند کی جائیں۔

 

پاکستان میں سونا 1700 روپے مہنگا، فی تولہ سونا کتنے کا ہوگیا؟


 

سونے کی قیمتوں میں اضافہ (کراچی / پاکستان)

آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی اور مقامی مارکیٹ میں تیزی کے باعث ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

قیمتوں کا جائزہ

کیٹیگریاضافہنئی قیمت
فی تولہ (24 کیرٹ)1,700 روپے4,28,436 روپے
10 گرام (24 کیرٹ)1,457 روپے3,67,314 روپے
عالمی مارکیٹ (فی اونس)17 ڈالر4,060 ڈالر
  • بین الاقوامی مارکیٹ کا اثر:

    عالمی سطح پر فی اونس سونا 17 ڈالر کے اضافے کے بعد 4,060 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان میں صرافہ مارکیٹ پر پڑا ہے۔

  • ڈالر اور مقامی روپے کی قدر:

    پاکستان میں سونے کے ریٹ کا تعین بین الاقوامی ریٹ کے ساتھ ساتھ امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے (PKR) کی قدر کی بنیاد پر بھی ہوتا ہے۔ روپے کی قدر میں تبدیلی سونے کی قیمتوں کو مسلسل متاثر کرتی ہے۔

  • 24 کیرٹ بمقابلہ 22 کیرٹ:

    • 24 کیرٹ: یہ خالص ترین سونا (99.9% خالص) ہوتا ہے، جسے زیادہ تر بسکٹس/بارز اور سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    • 22 کیرٹ: یہ زیورات کی تیاری کے لیے سب سے مقبول معیار ہے (جس کی فی تولہ قیمت معمول کے مطابق 24 کیرٹ کے مقابلے میں کچھ کم ہوتی ہے)۔

  • یکساں قومی ریٹ:

    ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ بنیادی ریٹ کراچی، لاہور، اسلام آباد، اور پشاور سمیت تمام شہروں میں یکساں لاگو ہوتا ہے۔ (مختلف شہروں میں زیورات کی ساخت اور "میکنگ چارجز" کی بنیاد پر حتمی قیمت میں تھوڑا فرق ہو سکتا ہے)۔

  • کراچی: میر رضا کی موت کی تفتیش میں پیشرفت، میڈیکل رپورٹ کی ابتدائی تفصیلات سامنے آگئیں


     

    تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا کی پُراسرار موت کے معاملے پر تحقیقات تیزی سے جاری ہیں۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق انہیں گولی سینے پر لگی تھی، تاہم تحقیقات میں اس اہم پہلو کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا گولی ممکنہ طور پر پیچھے سے تو نہیں لگی۔

    واقعے کی تفصیلات کے مطابق میر رضا کی لاش کی موجودگی کی اطلاع قریب ہی موجود ایک نرسری والے نے دی تھی۔ جائے وقوعہ کے قریب سے کچھ مشکوک موٹرسائیکل سوار افراد کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں، جن کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

    انکشاف ہوا ہے کہ موت سے قبل میر رضا مختلف لوگوں کے قرض دار بھی تھے۔ وہ گھر سے نکلتے وقت اپنی اسمارٹ واچ، والٹ اور گاڑی گھر پر ہی چھوڑ گئے تھے اور صرف ایک ہزار روپے اپنے ساتھ رکھے تھے، جبکہ ذرائع کے مطابق اس سے قبل ان کے پاس 40 ہزار روپے موجود تھے۔

    پولیس اور تفتیشی اداروں نے اب تک اس واقعے کے حوالے سے 15 سے زائد افراد کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں۔ تاہم، واقعے کے بعد سے تاحال آلہٴ قتل (اسسلحہ) اور گولی کا خول برآمد نہیں کیا جا سکا جو کہ تفتیش کا ایک اہم نکتہ ہے۔

    اس نوعیت کے پیچیدہ اور ہائی پروفائل پراسرار واقعات کی تفتیش میں درج ذیل سائنسی اور پیشہ ورانہ اقدامات انتہائی اہمیت
    کے حامل ہوتے ہیں

    ·  جیو فینسنگ (Geo-fencing): جائے وقوعہ اور اس کے گردونواح کے موبائل ٹاورز کا ڈیٹا حاصل کرکے اس وقت وہاں موجود تمام فون نمبرز کا ریکارڈ نکالا جانا چاہیے تاکہ مشکوک موٹرسائیکل سواروں اور مقتول کے رابطوں کا سراغ لگایا جا سکے۔

    ·  فنگر پرنٹس اور فرانزک تجزیہ: اگرچہ تاحال اسلحہ نہیں ملا، لیکن قریبی اشیاء، جائے وقوعہ کے آثار اور ڈیجیٹل ڈیوائسز (موبائل فون) سے حاصل ہونے والا ڈیٹا موت کے اصل محرکات (خودکشی یا قتل) سے پردہ اٹھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    ·  مالیاتی ٹرانزیکشنز: مقتول کے بینک اکاؤنٹس اور حالیہ مالی لین دین کی جانچ پڑتال سے قرض کے دباؤ یا کسی مالی تنازعے کے زاویے کو بھی واضح کیا جا سکتا ہے۔

     

    حيدرآباد کان متحد ۽ مضبوط سنڌ پيادل مارچ ڪيو


     

    حيدرآباد

     نيو جلالپور ڪئنال، شبير ساند جي قتل ، سنڌ ٽوڙڻ جي سازش، نياڻين جي قتل، ڪاروڪاري، سنڌو درياھ تي ڌاڙي، پريا ڪماري ،اُجالا پرين سولنگي سميت ٻارن جي اغوا، ميرٽ جي لتاڙ، ڪارپوريٽ فارمنگ، انتھاپسندي، ڪرپشن سميت سنڌ دشمن منصوبن خلاف سنڌياڻي تحريڪ قومي عوامي تحريڪ جي اياز لطيف پليجو ۽ شازيا احمداڻي جي اڳواڻي ۾ سٽي گيٽ حيدرآباد کان متحد ۽ مضبوط سنڌ پيادل مارچ ڪيو ويو، جيڪو ھيرا آباد، سول اسپتال، تلڪ چاڙهي، اسٽيشن روڊ، ڪوھ چوڪ، حيدر چوڪ، گولڊ بلڊنگ کان ٿيندو حيدرآباد پريس ڪلب پھتو، پيادل مارچ ۾ قومي عوامي تحريڪ جو مرڪزي جنرل سيڪريٽري ايڊووڪيٽ مظھر راھوجو، الطاف خاصخيلي، شوڪت تنيو، ضلعي صدر نذير بليدي، سنڌياڻي تحريڪ جي نصرت خاصخيلي، زينت سمون، فضا ملاح، شھربانو راھوجو، جلال بجير، عبدالله چانڊيو، معشوق چانڊيو، بابو ميمڻ، ڪامريڊ ڪرڙ ريٻاري، ميڻي ڪولھي، بينظير بجير ۽ ٻيا اڳواڻ شريڪ ھئا.

    ان موقعي تي خطاب ڪندي قومي عوامي تحريڪ جي سربراھ اياز لطيف پليجي وفاقي وزير داخلا محسن نقوي جي تازي بيان، سنڌ جي ورهاڱي جي سازش، جلالپور ڪئنال جي منصوبي ۽ تجويز ڪيل 28هين آئيني ترميم کي سخت تنقيد جو نشانو بڻائيندي اياز لطيف پليجي چيو تہ سنڌ جا عوام پنهنجن تاريخي، آئيني ۽ جمهوري حقن تي ڪنهن بہ قسم جو سمجهوتو نہ ڪندا. محسن نقوي جا بيان وفاقي يونٽن جي وچ ۾ اعتماد کي نقصان پهچائين ٿا. وفاقي حڪومت جو فرض آهي تہ اها سڀني صوبن کي برابري جو آئيني ۽ سياسي احترام ڏئي، اهڙا بيان محرومي ۽ بيچيني ۾ اضافو ڪن ٿا. اياز لطيف پليجي چيو تہ سنڌ جي ورهاڱي جو هر منصوبو ناقابلِ قبول آهي. سنڌ هڪ تاريخي، تهذيبي ۽ جاگرافيائي وحدت آهي. لساني، انتظامي يا سياسي بنيادن تي سنڌ کي ورهائڻ جي هر ڪوشش قومي يڪجهتي جي خلاف آهي. اياز لطيف پليجي چيو تہ سنڌ جو عوام  هر سازش جو ڀرپور، پرامن ۽ جمهوري مزاحمت ذريعي مقابلو ڪندو. جلالپور ڪئنال سميت درياهه سنڌ تي اهڙا سمورا منصوبا جيڪي سنڌ جي حصي جي پاڻي کي متاثر ڪن، 1991ع جي آبي معاهدي ۽ بين الصوبائي انصاف جي اصولن جي خلاف آهن. اياز لطيف پليجي چيو تہ سنڌ اڳ ئي سخت پاڻي کوٽ، زرعي تباهي ۽ انڊس ڊيلٽا جي بربادي جو شڪار آهي. اهڙا منصوبا سنڌ جي معيشت، زراعت ۽ لکين ماڻهن جي مستقبل لاءِ خطرو آهن. اياز لطيف پليجي چيو تہ تجويز ڪيل 28هين آئيني ترميم جيڪڏهن صوبائي خودمختياري، وفاقي توازن يا آئين جي بنيادي ڍانچي کي ڪمزور ڪرڻ لاءِ آندي پئي وڃي تہ قومي عوامي تحريڪ ان جي ڀرپور مخالفت ڪندي. ارڙھين آئيني ترميم ذريعي حاصل ٿيندڙ صوبائي اختيارن تي ڪو به سمجهوتو قبول نه ڪيو ويندو. اياز لطيف پليجي چيو تہ وفاق فوري طور تي سنڌ جي خلاف سڀ تڪراري منصوبا ۽ قدم واپس وٺي، آئين، جمهوريت ۽ وفاقي اصولن جي پاسداري ڪري. اياز لطيف پليجي چيو تہ سڀني قومي معاملن کي گڏيل مفادن واري ڪائونسل ۽ پارليامينٽ ذريعي آئيني طريقي سان حل ڪيو وڃي. اياز لطيف پليجي چيو تہ سنڌ جا عوام پنهنجي پاڻي، وسيلن، زمين، سڃاڻپ ۽ آئيني حقن جي تحفظ لاءِ هر جمهوري فورم تي جدوجهد جاري رکندا.

    سنڌياڻي تحريڪ جي مرڪزي آرگنائيزر شازيا احمداڻي خطاب ڪندي چيو تہ سنڌ اسان جو تاريخي وطن آهي. سنڌ جي وحدت تي ڪو بہ وار برداشت نہ ڪنداسين. پيپلزپارٽي اقتدار کي بچائڻ لاءِ سنڌو درياءَ، زمينن سميت وسيلن جي سوديبازي ڪري سنڌي ماڻھن جي پٺ ۾ خنجر پئي ھڻي سنڌ کي مڪمل تباھ ڪرڻ چاھي ٿي. سنڌ حڪومت ۽ پيپلزپارٽي جي سنڌ دشمن فيصلن جي ڪري سنڌ گھڻ رخي مسئلن ۾ جڪڙيل آھي. ايندڙ وقت سنڌ لاءِ وڌيڪ ڏکيو آهي قومي عوامي تحريڪ جي مرڪزي جنرل سيڪريٽري مظھر راھوجو جي خطاب ڪندي چيو تہ پيپلز پارٽي اقتدار خاطر سنڌ جي وسيلن، پاڻي تان ھٿ کڻي وئي آهي نيو جلالپور ڪينال کي وهائڻ غير آئيني آهي سنڌو درياھ تي ڪينال ٺاهڻ ملڪ جي بقا خلاف سازش آهي. ملڪ جي ترقي پسند، جمھوريت پسند، روشن خيال ۽ محب وطن پاڪستاني کي سنڌ سان گڏ بيهڻو پوندو. اڳواڻن چيو تہ پيپلزپارٽي سمجهي ٿي تہ اسان وفاق سان سنڌ جو سودو ڪيو آهي اٺ ڪروڙ سنڌي اسان جا غلام آھن اھي خاموش رهندا. پيپلزپارٽي کي سمجهڻ کپي سنڌي ماڻھو پنهنجي سنڌو جي درياھ جي پاڻي جو هڪ ڦڙو بہ سنڌ جو ھڪ انچ بہ ڏيندا. نواز ليگ کي مضبوظ ڪرڻ لاء سنڌ پيپلزپارٽي کي لکي ڏئي ڇڏي اٿن، پيپلزپارٽي بي ٽيم وارو ڪرادار ادا پئي ڪري۔ پاڻ سڀ سنڌ واسي وفاق کي سنڱ چٽي ۽ بدي ۾ ڏنل آهيون، پيپلزپارٽي انهن کي پڪ ڏياري آهي تہ سنڌ اسان جي کيسي ۾ پئي آهي، سنڌ جي احتجاجن کي ڪير ٿو پڇي.

    میرے اکلوتے بیٹے کو انصاف کی حمایت کرنے پر گولی ماری گئی


     

    کشمیر کی خبر 3 اگست 2026: ڈاکٹر انور کا عارضی کلینک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (PAK) کے شہر راولاکوٹ میں مرکزی احتجاجی مقام سے زیادہ دور نہیں ہے۔ ایک فالتو بیڈروم میڈیکل سپلائی الماری کے طور پر کام کرتا ہے، باہر ایک سرخ تنی ہوئی ترپال کے نیچے ایک بستر ہے۔

    شفقت حسین بستر کے پار لیٹے ہوئے ہیں، سینے میں گولی لگی ہے۔ وہ جس چادر پر پڑا ہے وہ پہلے ہی زخمیوں کے خون سے رنگا ہوا ہے۔ وہ مر رہا ہے۔

    پچھلے دو مہینوں میں، گروپ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے سیکورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد خطے میں مارے جا چکے ہیں

    ڈاکٹر انور – جن کا نام، اس رپورٹ میں شامل دیگر افراد کی طرح، معلومات فراہم کرنے والوں کے تحفظ کی خاطر تبدیل کر دیا گیا ہے – ہماری ٹیم کو بتاتے ہیں: "ہمارے پاس ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے کافی سامان موجود ہے۔ ہم خون بہنے سے روک سکتے ہیں، زخموں کی صفائی اور پٹی کر سکتے ہیں، اور جسم کی اوپری سطح پر موجود گولیوں کو نکال سکتے ہیں۔ لیکن سینے، پیٹ، سر یا دیگر اہم اعضاء پر شدید زخموں کے شکار مریضوں کو جدید سہولیات والے ہسپتالوں کی ضرورت ہوتی ہے۔"

    ڈاکٹر انور مزید کہتے ہیں: "اگر ایسے بہت سے مریض ایک ہی وقت میں آ جائیں تو بڑے ہسپتالوں کے لیے بھی صورتِ حال سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔"

    ڈاکٹر کے مطابق، 27 جولائی سے اب تک اس کلینک میں شدید زخمی ہونے والے تقریباً 50 سے 60 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے؛ انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر گولی لگنے سے زخمی ہونے والے 15 سے 20 مریضوں کا علاج کیا۔

     

     

     

    براڈ پیک حادثہ: کوہ پیما نرمل پرجا کی لاش برآمد، پاکستانی سہیل سخی کی تلاش تاحال جاری


     سکردو: پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی 12 ویں بلند ترین چوٹی ’براڈ پیک‘ (8,051 میٹر) پر جمعرات کو آنے والے ہولناک برفانی تودے کے نتیجے میں عالمی ریکارڈ یافتہ نیپالی کوہ پیما نرمل 'نمسدائی' پرجا سمیت مہم میں شامل تمام 10 کوہ پیما ہلاک ہو گئے ہیں۔ الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق، ریسکیو ٹیموں کو پہاڑ پر تقریباً 5700 میٹر کی بلندی پر نرمل پرجا اور دیگر ارکان کی لاشیں مل گئی ہیں، تاہم شدید خراب موسم اور انتہائی دشوار گزار راستوں کے باعث لاشوں کو نیچے لانے کا آپریشن شدید خطرات کا شکار ہے

    مہم جوئی کا انتظام کرنے والی کمپنی ایلیٹ ایکسپیڈیشنز (Elite Exped) نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ 43 سالہ نرمل پرجا، جو آکسیجن کے بغیر دنیا کی تمام 14 بلند چوٹیوں کو دوسری بار سر کرنے کا منفرد عالمی ریکارڈ بنانے نکلے تھے، اس حادثے میں زندہ نہیں بچ سکے۔ اس المیے پر نیپال کے وزیرِ اعظم اور برطانوی شاہی خاندان کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے

    حالیہ پیش رفت اور لاپتہ پاکستانی کوہ پیما کی صورتحال:
    سرچ اینڈ ریسکیو ذرائع کے مطابق، حادثے کا شکار ہونے والے 10 رکنی بین الاقوامی گروپ میں شامل پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی (جن کا تعلق ہنزہ سے ہے) کی تلاش کے دوران ریسکیو ٹیموں کو ان کا بیگ اور تباہ شدہ جی پی ایس (GPS) ٹریکر ڈیوائس ملی ہے۔ تاہم، ان کی جسدِ خاکی یا حالت کے بارے میں تاحال حتمی طور پر کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے

    کشمیر الیکشن کے دوسرے مرحلے میں پولنگ ختم مگر مظفرآباد میں کشیدگی


    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات کا دوسرا مرحلہ مکمل: مظفرآباد میں کشیدگی برقرار، انٹرنیٹ سروس بند
    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عام انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت مظفر آباد ڈویژن کے آٹھ حلقوں اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے اور اب ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔
    ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ایل اے 27 (مظفر آباد ون) میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پولنگ کو مؤخر کرنا پڑا، جبکہ پاکستان میں مقیم جموں و کشمیر کے چار لاکھ سے زائد مہاجر ووٹرز نے بھی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
    دوسری جانب، مظفرآباد شہر میں شدید عوامی غم و غصے اور کشیدگی کی وجہ سے صورتحال تاحال ناساز ہے۔ گزشتہ روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور پولیس کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں ایک شہری کی ہلاکت کے بعد شہر کے تمام گنجان آباد علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے اور مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بلاک کر رکھے ہیں۔ امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے اور افواہوں کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے شہر میں انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا سروسز کو ایک بار پھر معطل کر دیا ہے۔
    الیکشن کمیشن کے مطابق، انتخابی عمل کو پرامن بنانے کے لیے پولیس اور رینجرز کے 18 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ایل اے 5 کھاوڑہ اور ایل اے 3 لجرہ کو انتہائی حساس قرار دے کر وہاں اضافی نفری الرٹ رکھی گئی ہے

    انعم عزیز نے پاکستان کی پہلی 100 کلومیٹر الٹرا میراتھون جیت کر نئی تاریخ رقم کر دی

      انعم عزیز نے دشوار گزار پہاڑی راستوں، گھنے جنگلات اور قدرتی و جنگلی حیات سے جڑے خطرات کے باوجود اس کٹھن مقابلے میں غیر معمولی کارکردگی کا ...