کراچی: آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے حکومت سے مذاکرات اور مطالبات کی منظوری نہ ملنے پر 8 اگست (بروز ہفتہ) سے غیر معینہ مدت کے لیے ملک گیر ہڑتال (پہیہ جام) کا اعلان کر دیا ہے۔
اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو باضابطہ طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا ہے
اہم
مطالبات:
- وزیر
پیٹرولیم کا استعفیٰ:
o ناقص
پالیسیوں پر وزیر پیٹرولیم (علی پرویز ملک / پرویز علی ملک) فوری طور پر اپنے عہدے
سے مستعفی ہوں۔
- پیٹرولیم
مصنوعات اور قیمتیں:
o پیٹرول
اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپس لیا جائے۔
o ایندھن
کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل کرنے کے بجائے ماہانہ بنیادوں پر مقرر
کی جائیں۔
- ٹیکس
اور ٹول ٹیکس میں کمی:
o گڈز
ٹرانسپورٹ سیکٹر پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 7
فیصد سے کم
کر کے 2 فیصد
کی جائے (جو کہ آئل ٹینکرز کے برابر ہو)۔
o ٹول
ٹیکس میں کیا گیا اضافی اضافہ واپس لے کر اسے 30 جون 2024ء کی سطح پر بحال کیا
جائے۔
- قانونی
اور ضابطہ جاتی اصلاحات:
o ایکسل
لوڈ کے قانون پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
o کسٹم SRO 1619/2024 اور 10 سے 20 سال پرانی گاڑیوں کی
منسوخی کا قانون فوری طور پر ختم کیا جائے۔
o روڈ
حادثات میں 97 لاکھ روپے دیت کے قانون کو واپس لیا جائے۔
o ڈرائیوروں
کے لیے ٹیسٹ کے بعد HTV لائسنس کے اجراء کو آسان بنایا جائے۔
- سیکیورٹی،
سہولیات اور دیگر امور:
o کراچی
پورٹ اور پورٹ قاسم کے اطراف گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے پارکنگ کی مخصوص سہولت فراہم
کی جائے۔
o بلوچستان
میں ٹرکوں پر حملوں اور امن و امان کی ابتر صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔
o سندھ
حکومت کی جانب سے تھرڈ پارٹی انشورنس کے نام پر ہونے والی مبینہ غیر قانونی
کٹوتیاں اور وصولیاں بند کی جائیں۔

No comments:
Post a Comment