کراچی / اسلام آباد: سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ جس طرح 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی گئی تھی، اسی طرز عمل کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی دہرایا گیا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ وفاق اور پنجاب میں قائم حکومت نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی "فارم 47" کی سیاست کو جاری رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو شکست دینے کے لیے وفاقی اور پنجاب حکومت نے مبینہ طور پر گٹھ جوڑ کیا، جس کے باعث انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایک "خیراتی مینڈیٹ" کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے، لیکن وفاقی وزراء کی حالیہ پریس کانفرنس میں انہیں کسی قسم کی ندامت یا افسوس دکھائی نہیں دیا۔ ان کے بقول، وزراء کی گفتگو میں تکبر اور غرور نمایاں تھا، تاہم یہ رویہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے گا کیونکہ عوام انتخابی عمل کی حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر خصوصاً میرپور ڈویژن میں ہونے والے انتخابات کے دوران مختلف بے ضابطگیوں کی شکایات الیکشن کمیشن کو جمع کرائی گئیں، مگر ان پر کوئی مؤثر کارروائی یا نوٹس نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ "دھاندلی بھی کی گئی اور پھر اس کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کا دفاع بھی کیا جا رہا ہے۔"
انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی اپنا مؤقف شائستگی اور قانونی طریقے سے پیش کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی گالم گلوچ یا بدتمیزی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ آئینی اور قانونی فورمز پر اپنے تحفظات اٹھائے گی

No comments:
Post a Comment