اسلام
آباد ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ
تنہائی کے خلاف درخواستوں پر جسٹس خادم حسین سومرو نے سماعت کی
درخواست گزاروں کی جانب سے
بیرسٹر سلمان صفدر جبکہ حکومت کی نمائندگی ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک
نے کی
.
.
ایڈووکیٹ
جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے، جس
کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی قیدِ تنہائی میں نہیں بلکہ انہیں بی کلاس سے
بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر
دیگر قیدیوں سے ملاقات محدود ہے، جسے قیدِ تنہائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جیل
سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ نے عدالت کو بتایا کہ قیدِ تنہائی میں قیدی 24 گھنٹے سیل میں
بند رہتا ہے، جبکہ عمران خان کو سات سیلز پر مشتمل کمپاؤنڈ میں آزادانہ نقل و حرکت
کی اجازت ہے۔ ان کے ساتھ ایک سزا یافتہ مشقتی بھی موجود رہتا ہے۔ انہوں نے بتایا
کہ عمران خان کو ٹی وی، اخبارات اور کتب کی سہولت حاصل ہے، دو اخبارات باقاعدگی سے
فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ اب تک 500 سے زائد کتابیں دی جا چکی ہیں۔
دوسری
جانب بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر بطور فرینڈ
آف دی کورٹ عمران خان سے ملاقات کے دوران ان کی بینائی متاثر محسوس ہوئی۔ ان کے
مطابق عمران خان نے خوراک، سکیورٹی اور دیگر بنیادی سہولیات پر اطمینان کا اظہار
کیا، تاہم اپنی بینائی کے حوالے سے تشویش ظاہر کی۔
سلمان صفدر نے کہا کہ انہیں سات ماہ تک اپنے مؤکل سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی اور چیف جسٹس کی مداخلت کے بعد اپریل میں 65 منٹ کی ملاقات ممکن ہوئی۔ ان کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ انہیں اور بشریٰ بی بی کو طویل عرصے سے عملاً قیدِ تنہائی کا سامنا ہے، جبکہ ٹی وی موجود ہونے کے باوجود چینلز دستیاب نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی
بہن علیمہ خانم کو متعدد بار اڈیالہ جیل جانے کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں ملی،
جبکہ گزشتہ آٹھ ماہ سے عمران خان کی اپنے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات بھی نہیں کرائی
گئی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت سے
استدعا کی کہ تین وکلا پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جو جیل جا کر دونوں قیدیوں کے
حالات کا جائزہ لے، اور عمران خان کو ہفتے میں ایک بار اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک
گفتگو کی سہولت فراہم کرنے سے متعلق بیانِ حلفی بھی طلب کیا جائے۔
دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فریقین
کو تحریری گزارشات اور متعلقہ عدالتی نظائر جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے فیصلہ
محفوظ کر لیا
.jpg)
No comments:
Post a Comment